*سفر نامہ زیارت حرمین شریفین*
*پندرہ سو سالہ جشن عید میلادالنبی ﷺ کے حسین موقع پر رضااکیڈمی کے بینر تلے ایک سو پانچ عاشقان رسول ﷺ کی حرمین شریفین میں حاضری*
*تحریر۔ظفرالدین رضوی ممبئی*
ممبئی 29/اگست 2025 بروز جمعہ صبح 11/بجکر 25/منٹ پر سعودی ایئر لائنس سے ایک سو پانچ افراد پر مشتمل عاشقان رسول ﷺ کا قافلہ پندرہ سو سالہ جشن عید میلادالنبی ﷺ کے حسین موقع پر رضااکیڈمی کے بینر تلے شہزادۂ غوث اعظم پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضور معین المشائخ حضرت علامہ مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی صاحب قبلہ دام ظلہ علینا سجادہ نشین آستانہ عالیہ مخدوم پاک کچھوچھہ شریف و صدر آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء و محافظ ناموس رسالت خلیفہ تاج الشریعہ اسیر مفتئ اعظم حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب بانی و سربراہ رضااکیڈمی و نائب صدر آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء کی قیادت میں عمرہ کے لئے ممبئی ایئرپورٹ انڈیا سے روانہ ہوا سبھی معتمرین ممبئی ایئرپورٹ کی مخصوص مسجد میں نماز نفل پڑھنے کے بعد احرام پہن کر فلائٹ کی طرف خرامہ خرامہ روانہ ہوئے ماحول بارونق تھا فضا مشک بار تھی قافلے کا ہر فرد ایک دوسرے کو مژدہ جانفزا سنانے لگا عاشقان رسول ﷺ کے چہرے کھلکھلا اٹھے لبوں پر صل علی کے ترانے چھڑ گئے ہواؤں نے کہا کہ دیوانوں عنقریب تمہاری نگاہوں کے سامنے حرمین شریفین کے نورانی مناظر ہوں گے بہاروں نے کہا دیوانوں مرحبا اھلا و سھلاً مرحبا ایسے میں طبیعتیں مچلنے لگیں بجھے ہوئے دلوں کو قرار آنے لگا برسوں کی تمنائیں حقیقت میں بدلنے لگیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس سفر مبار کی روشنی میں ہر فرد کے چہرے چمکنے لگے اور کیوں نہ ہو آج ہم غلاموں کی حاضری اس دیار پاک میں ہونے جارہی ہے جہاں شب و روز رحمتوں کی موسلادھار بارشیں ہوتیں ہیں جہاں کی فضائیں مشکبار ہوتی ہیں جہاں نسیم سحری کے خوشبودار جھونکے ذرے ذرے کو مژدہ جانفزا سنانے میں لگے رہتے ہیں جہاں کی مبارک گلیاں مسکرانے میں محو و مستغرق رہتی ہیں بھنورے نغمۂ لاہوتی کے ترانے سنانے میں مصروف ہوتے ہیں جہاں کی ہوائیں سدا مہکتی ہی رہتی ہیں جہاں ہر طرف مرحبا مرحبا کی صدائیں گونجتی رہتی ہیں ایک سو پانچ افراد پر مشتمل قافلے کے لبوں پر صل علیٰ صل علیٰ کے ترانے گونج رہے تھے مستی میں قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا اور کیوں نہ ہو بیت اللہ کی زیارت اور غمگساروں کے آقا ﷺ کے دیار پاک پر حاضری ہونے والی ہے قافلہ اس لئے بھی زیادہ خوش تھا کہ اس کی قیادت کوئی اور نہیں سرکار کے گھرانے کا ایک چشم و چراغ بشکل حضور معین المشائخ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف صاحب فرمارہے تھے راقم الحروف بھی اسی قافلے میں شامل تھا اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ دیار حبیب کی حاضری میسر ہوگی لیکن جب کرم ہوتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو کہ جس کے دل میں حرمین شریفین کی حاضری کا شوق اور تمنا موجود نہ ہو مگر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے میرے ساتھ یہ مجبوری تھی کہ میرے پاس پاسپورٹ کا نہ ہونا تھا جو شدید خواہش ہونے کے باوجود پاسپورٹ نہ ہونا روکاوٹ کا سبب بن جاتا تھا رضااکیڈمی کی جانب سے تقریباً تین سالوں سے پندرہ سو سالہ جشن عید میلادالنبی ﷺ کی تشہیر خوب زوروں سے چل رہی تھی جماعت اہلسنت والجماعت کے ممتاز عالم دین علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ کی سیرت مصطفٰی نامی کتاب علمائے کرام کے باہم مشورہ سے پندرہ سو روپیہ ہدیہ تنظیم کی طرف سے طے کیا گیا اور کہا گیا کہ جو اس کتاب کا خریدار بنے گا اس کا نام قرعہ کے ذریعہ نکالا جائے گا جس کا نام قرعہ میں آئے گا اسے تنظیم کو پندرہ ہزار روپے ادا ہوگا پھر وہ حرمین شریفین کی زیارت کے لئے اس قافلے میں شریک ہوپائے گا۔
قرعہ اندازی کا دن قریب آنے لگا مجھ ناچیز کے دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہونے لگیں خواہش دل ہی دل میں حد درجہ مچلنے لگی مگر پاسپورٹ کا نہ ہونا سب سے بڑی مجبوری تھی رضااکیڈمی کے دفتر میں اسیر مفتئ اعظم حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب کے ساتھ کچھ احباب کے سفر حرمین شریفین کی بابت بات چل رہی تھی میں نے کہا کہ لگتا ہے کہ مجھ جیسے نکمے وہاں کا سفر نہیں کرسکتے نوری صاحب نے کہا کہ حضرت آپ اور مولانا محمد عباس رضوی کو ہر حال میں چلنا ہے میں نے کہا حضرت میرے پاس پاسپورٹ نہیں ہے اور جن لوگوں سے بات کرتا ہوں وہ سب یہی کہہ رہے ہیں کہ اس وقت پاسپورٹ کی بڑی شرائط ہیں بہت مشکل ہے کئی لوگوں سے میں نے اس سلسلے میں رابطہ کیا مگر کہیں سے خاطر خواہ جواب نہ ملا میں کافی اداس تھا انہوں نے کہا آپ کوشش کریں سرکار کرم فرمائیں گے ایک دن میں اپنے بھانجے حافظ سلمان رضا خطیب و امام سنی مسجد جین سوسائٹی سائن ممبئی سے رابطہ کیا انہوں نے کہا کہ مامو فکر نہ کریں آپ کا پاسپورٹ بن جائے گا وہ اپنے ایک پہچان والے کے پاس لے گئے اس بندے نے فارم بھرا اللہ کا شکر فوراً میسیج آگیا کہ آپ کو فلاں تاریخ پاسپورٹ آفس دو بجے پہنچنا ہے خیر وہاں میں نے پہنچ کر فارم جمع کیا ایک گھنٹے آس پاس میں باہر نکلا تین دن بعد پاسپورٹ ملا پاسپورٹ ملنے پر جو خوشی ہوئی اس وقت کی کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہوں پاسپورٹ بننے اور ویری فیکیشن تک جتنی دشواریاں سامنے آئیں وہ بھی بیان کرنے سے قاصر ہوں دن گزرتے گئے جمعرات کا دن تھا دن میں بےچینی حد درجہ تھی دن گزرنے کے بعد رات آٹھ بجے کے قریب شہزادہ اسیر مفتئ اعظم جناب محمد مصطفیٰ رضا المعروف بہ امن میاں کا فون آیا کہ حضرت آپ کو مبارک ہو آپ کا ویزا آگیا ہے دل کو تھوڑی سی تسلی ہوئی کہ اگر پاسپورٹ اوکے نہیں ہوتا تو ویزا نہیں ملتا گویا کہ سب خیر ہی خیر ہے صبح کے ساڑھے چار بجے میں اپنے گھر سے ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوا ایئرپورٹ پہونچا دیکھا لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہورہے ہیں آپس میں خوشی کا اظہار کررہے ہیں کئی لوگوں نے مجھ سے بھی پوچھا کہ حضرت آپ بھی چل رہے میں نے ہاں میں سر ہلایا تھوڑی ہی دیر میں قافلہ ایئرپورٹ کے اندر بڑھنے لگا میں بھی چھوٹا سا دل لیکر اندر گیا کاؤنٹر کے پاس بیگ رکھا مجھ سے ویزا اور پاسپورٹ مانگا گیا میں نے دیا فوراً بورڈنگ پاس نکلا جان میں جان آئی اس وقت دل بھر گیا اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھا اب باری آئی ایمیگریشن کی اس کاؤنٹر پہ پہنچا ایمیگریشن کرنے والے نے کہا مشین پر انگلیاں رکھو میں نے رکھا اس کے بعد اس شخص نے کہا چشمہ اتارو اب مجھے یقین ہوگیا کہ سرکار میں میری حاضری اب پکی ہے اس وقت حضور معین المشائخ اور اسیر مفتئ اعظم کی بات ذہن میں گردش کرنے لگی کہ میاں نے کہا تھا مخدومی فیضان ہوگا نوری صاحب نے کہا تھا کہ سرکار کا کرم ہوگا ان بزرگوں کی دعائیں میری نگاہوں کے سامنے ساون بھادوں کی طرح برس رہی تھیں۔ ایئرپورٹ کے اندر گیا وہاں کی مخصوص مسجد میں نماز نفل ادا کیا احرام باندھنے کی تیاری کرنے لگا اس وقت میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے بیساختہ رونے لگا سامنے میرے عزیز امین بھائی کھڑے تھے ان کے گلے لگ کر خوب رویا کہ سرکار نے مجھے بھی بلا لیا۔
جب کرم ہوتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں۔
پھر کیا تھا چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہونے لگے بجھی ہوئی طبیعت مچلنے لگی مضمحل دل کو قرار آگیا برسوں کی بندشیں رفو چکر ہوگئیں میری خوشی اوج ثریا سے باتیں کررہی تھی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ قافلے کا ہر فرد خوشی میں جھوم رہا تھا سب کے چہرے کھلکھلا رہے تھے ہر طرف اجالا ہی اجالا دکھنے لگا کمہلائی ہوئی دل کی کلیاں مسکرانے لگیں نورونکہت کی فضائیں ہر سو بکھرنے لگیں عنقریب حرمین شریفین کی حاضری ہونے والی ہے اس بہار نو کی خوشی میں دیوانے مچل رہے تھے بجھے ہوئے دلوں کو قرار آنے لگا جی ہاں آج اس کے دربار میں حاضری ہونے جارہی ہے جس کے صدقے میں کائنات کو وجود بخشا گیا۔
بیشک ہمارے لئے اس دن سے بڑی عید کوئی دوسری عید ہو ہی نہیں سکتی جس دن پیارے آقا حبیب کبریا امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت اللعالمین و خاتم النبیین بنکر ١٢ ربیع الاول شریف دوشنبہ کے دن صبح صادق کے وقت حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش مبارک میں جلوہ افروز ہوئے اسی جشن بہاراں کے موقع پر مدینہ منورہ میں ہم غلاموں کی حاضری ہونے جارہی تھی ہر طرف سے مرحبا مرحبا کی صدائیں آنے لگیں بہاروں پھول برساؤ ہم اپنے آقا کی بارگاہ میں حاضری دینے جارہے ہیں دیوانوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور کیوں نہ ہو جس قافلے کی سیادت و قیادت جنت البقیع میں آرام فرما حضور شہید راہ مدینہ حضور مثنیٰ کے شہزادے آل رسول مخدوم زادہ شہزادہ غوث اعظم حضرت مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی دام ظلہ علینا کررہے ہوں ان کے رخ زیبا کو دیکھ دیکھ کر دیوانے کہہ رہے تھے یقیناً ہماری حاضری قبول ہوگی کیونکہ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے دیار حبیب کی حاضری کے وقت کہا تھا کہ۔
تری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو میرا غوث ہے اور لاڈلہ بیٹا تیرا
اسی شعر کے جلوؤں میں ہم بھی اپنے آپ کو محسوس کررہے تھے۔
ساتھ ہی اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ دیوانوں خوشیاں مناؤ ہمارے ساتھ حضور معین المشائخ حضرت سید معین ملت ہیں نوری صاحب نے کہا کہ اے ایک سو پانچ افراد پر مشتمل قافلے والوں خوشیاں مناؤ عنقریب زیارت حرمین شریفین کے شرف سے مشرف ہونے جارہے ہو اس قافلے کی سرپرستی کوئی اور نہیں بلکہ شہزادۂ غوث اعظم کررہے ہیں۔جنت البقیع میں آرام کرنے والے حضور شہید راہ مدینہ حضرت سید مثنی میاں علیہ الرحمہ کے بیٹے کررہے ہیں۔اس کے دربار میں جارہے ہو جس کے قدوم میمنت سے کائنات میں بہار ہی بہار آئی ہے جہاں رحمت و نور کی ہمیشہ بارشیں ہوتی ہیں۔
قریب پانچ گھنٹے کی مسافت طے کرتے ہوئے فلائٹ جدہ ایئرپورٹ پہونچا قافلہ باہر نکلا بس میں سوار ہوا دوران سفر ایک مسجد میں نماز ظہر کی جماعت کی تیاری کی گئی جیسے میرے حصے میں اس وقت میں نے تکبیر کہی حضور معین المشائخ نے نماز ظہر پڑھائی سبھوں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے اس کے بعد قافلہ مکہ شریف کی طرف روانہ ہوا ڈیڑھ گھنٹے میں ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے راستے میں جابجا بچھے سرنگوں کے حال نے بہت محظوظ کیا دیکھتے ہی دیکھتے فندق بلال وہ ہوٹل آگیا جس میں ایک سو پانچ افراد پر مشتمل قافلہ ٹھہرنے والا تھا لوگ اپنے اپنے کمرے میں شفٹ ہونے لگے ہم نے بھی ایک کمرے کا انتخاب کیا جو تین بیڈ پر مشتمل تھا راقم الحروف اور مبلغ تحریک درود و سلام حضرت مولانا محمد عباس رضوی صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد رضوان صاحب گوونڈی اسی کمرے میں ٹھرے عشاء بعد کھانا کھانے کا وقت ہوا ہم لوگوں نے کھانا کھایا کھانے کے بعد ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ احرام کی حالت میں رات بھر سونے سے بہتر ہے کہ ابھی عمرہ سے فارغ ہوجائیں پھر کیا تھا حاضری کا حکم ہوجاتا ہے آجاؤ میرے گھر کی زیارت کرلو مجھ سے کچھ کہنا ہے تو کہو رحمتوں کی بارش ہے سمیٹ سکتے ہو تو سمیٹ لو میری توفیق تمہارے ساتھ ساتھ ہے زرخیز مٹی بن جاؤ جو بارش پڑنے پر سونا اگلتی ہے وہ مرحلہ بھی آگیا جس کا عرصے سے انتظار تھا نگاہوں کے سامنے خانۂ کعبہ موجود تھا دھیرے دھیرے راقم الحروف نے آنکھوں کو خانۂ کعبہ کی طرف متوجہ کرنے لگا بس کیا تھا یک ٹک دیکھتے گیا تصور اور سامنے موجود ہونے کا فرق عیاں ہوگیا اس وقت کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہوں حقیقت تو یہ ہے کہ پچھلی تمام آزمائشیں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں ندامت کا اثر گہرا ہوجاتا ہے دعاء نکلتی ہے اے خدا دل کی بنجر زمین کو زرخیز کردے
طواف کرنے کے بعد دو رکعت نماز مقام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے ادا کئے آب زم زم پیئے تھکان کے باوجود ایک اطمینان اور خوشی حاوی تھی کہ عمرہ مکمل ہونے والا ہے اب صفاء و مروہ کی سعی مکمل ہوئی چار راتیں مکہ مکرمہ میں گزار کر گیارہ ربیع الاول کو گیارہ بجے دن میں مدینہ منورہ کے لئے قافلہ روانہ ہوا قریب ساڑھے پانچ گھنٹے میں مدینہ شریف پہنچ گیا اس دوران تمام راستے پر آس پاس چٹانیں اور پہاڑ دیکھ کر اور موجودہ وقت میں بنی بہترین روڈ کے باوجود پانچ چھ گھنٹے کا سفر دیکھ کر وہ زمانہ نگاہوں میں گھومنے لگا کہ جب نہ ایسے راستے تھے نہ ایسی سواریاں تھیں اس وقت ہمارے پیارے آقا نبی کریم ﷺ نے کیا کیا تکالیف اس سفر میں نہ اٹھائی ہوں گی مدینہ منورہ میں ہمارا ہوٹل مسجد بلال کے قریب تھا جس کا نام مرسی الخیر تھا رات میں عشاء بعد ہم لوگوں نے تازہ غسل کیا روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کے شرف سے مشرف ہونے کا وقت قریب آگیا ہم لوگ ہوٹل سے باہر آئے بلند و بالا عمارتوں کی پاس گزر کر حرم نبوی شریف تک آگئے لبوں پر صل علیٰ کے ترانے تھے سیدھے حرم شریف میں داخل ہوئے اس وقت خوشی کی انتہا نہ تھی جھک کر سلام پیش کیا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب کچھ دیکھا بھالا تھا ان مناظر کو ہم نے بارہا موبائیل وغیرہ پر دیکھا تھا تاہم آنکھوں سے دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم جیسے نکمے کو بھی یہ سعادت میسر ہوئی ہے حرم شریف میں داخل ہوئے تو سنہری جالیوں کے اوپر پیارے آقا ﷺ کا اسم مبارک درج تھا باب السلام سے داخل ہوئے حاضری کے شرف سے مشرف ہوئے جہاں جہاں ہاتھ اور لبوں سے بوسہ لینے کا موقع ملتا لے لیتے روضئے اقدس سے باہر نکل کر صحن میں چھتریوں کے سایہ تلے بیٹھ کر گنبد خضریٰ کو یک ٹک دیکھتے رہے اور دعاؤں میں مشغول ہوگئے درود شریف پڑھتے پڑھتے بےخودی کے آثار نمودار ہوئے وہاں سے اٹھے آب زم زم کا جس جگہ انتظام تھا وہاں گئے آب زم زم شریف پئے حرم شریف کے مختلف حصوں پر عقیدت و محبت اور بے خودی و سرشاری کے عالم میں چکر لگانے کے بعد ہوٹل رما کی طرف چل دیئے جہاں حضور معین المشائخ اور اسیر مفتئ اعظم اپنے مخصوص رفقاء کے ساتھ جس میں کچھوچھہ شریف کے سادات کرام کی ایک بڑی جماعت تھی اس میں ٹہرے ہوئے تھے ان کی خدمت میں ہم پہنچے حضور المشائخ نے ہمیں دیکھ کر مسکرایا اور کہا اھلا و سھلاً مرحبا آپ نے فرمایا آپ لوگ بیٹھیں پانی اور کھجور پیش کیا ہم لوگوں نے کھایا حضرت نے خوب دعاؤں سے نوازا میاں نے پوچھا کہاں سے آرہے ہیں ہم نے جواب میں کہا کہ ہم سب سرکار کی بارگاہ میں حاضری دینے گئے تھے اتنا سننا تھا آپ نے فرمایا سرکار آپ لوگوں کی حاضری قبول فرمائیں ہم نے مولانا عباس رضوی صاحب سے کہا اب ہماری حاضری قبول ہوگئی کیونکہ شہزادہ غوث اعظم نے کہدیا ہے کہ سرکار حاضری قبول فرمائیں
دوسرے دن حضور معین المشائخ اور اسیر مفتئ اعظم کی قیادت میں صحابئ رسول سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار پاک پر حاضری ہوئی حضور معین المشائخ نے ہم سب اور جملہ عاشقان رسول ﷺ کے لئے ڈھیر ساری دعائیں کیں دعاء سے فارغ ہونے کے بعد ہم سب حضور معین المشائخ کی قیادت میں آگے بڑھنے لگے اس وقت ہم نے اپنے ماتھے کی نگاہوں سے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے سے یہ پوچھ رہے تھے کہ یہ کون بزرگ ہیں ہم نے انہیں بتایا کہ یہ شہزادہ غوث اعظم حضرت مولانا سید معین الدین اشرف انڈیا کی مشہور درگاہ حضرت مخدوم اشرف علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف کے صاحب سجادہ اور اہلسنت کی مشہور تنظیم آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء کے صدر ہیں قارئین کرام آپ کو بتاتا چلوں کہ میں نے جو بات حضور معین میاں صاحب کے تعلق سے لکھی وہ حقیقت پر مبنی ہے اس میں ذرہ برابر بھی مبالغہ آرائی نہیں ہے پوچھنے والوں میں مصری بھی تھے سوڈانی بھی تھے افغانی بھی تھے انڈونیشیائی بھی تھے پڑوسی ممالک کے لوگ بھی یہ پوچھنے پر مجبور تھے کہ یہ کون بزرگ ہیں ہم نے اس وقت یہ محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور معین المشائخ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی دام ظلہ علینا کو اپنی رحمتوں سے خوب مالا مال کر رکھا ہے آپ کا چہرہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چہرے پہ نورونکہت کی ساری بہاریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
حضور معین المشائخ کی صدارت اور اسیر مفتئ اعظم کی قیادت اور کچھوچھہ شریف کے بہت سارے سادات کرام کی سیادت میں پھر وہ حسین موقع ملا وہ سہانی تاریخ آئی جس کے لئے ہم سب بڑی صبری سے منتظر تھے وہی سہانی تاریخ جس کے صدقے میں کائنات کو وجود بخشا گیا واضح رہے کہ رضااکیڈمی کے بینر تلے ایک سو پانچ افراد پر مشتمل نورانی قافلہ انڈیا سے مدینہ منورہ میں اپنے سرکار کا پندرہ سو سالہ جشن عید میلادالنبی ﷺ منانے کے لئے گیا آیا تھا۔
شب عید میلادالنبی ﷺ میں جشن پاک کا اہتمام شہزادہ رئیس ملت خطیب دوراں حضرت علامہ مولانا سید جامی میاں صاحب قبلہ کی قیام گاہ جو زم زم ہوٹل میں تھی وہیں پر رات کے ڈھائی بجے حضور معین المشائخ کی سرپرستی اور حضرت مولانا سید جامی میاں کی صدارت اور حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب کی قیادت میں اہتمام کیا گیا حضرت سید جامی میاں نے نعت رسول مقبول ﷺ پڑھی اس کے بعد مجھ ناچیز کو اسیر مفتئ اعظم نے نعت پڑھنے کو کہا میں نے بھی کچھ کلمات خیر کا ورد کیا اس کے بعد صلاۃ و سلام پڑھا گیا اور حضور معین المشائخ نے رقت آمیز دعاء فرمائی محفل میں شریک لوگوں کی آنکھوں سے آنسو جاری دیکھا گیا حضرت سید معین میاں صاحب کی قیادت میں نماز فجر کے لئے اذان ختم ہونے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے کی تاخیر کرتے ہوئے سادات کرام پر مشتمل قافلہ مسجد نبوی شریف پہنچا نماز فجر ادا کی گئی ہم لوگ اپنے ہوٹل کی طرف چلنے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ حضور معین المشائخ نے ہمارے ہاتھ میں پانچ سو ریال عطاء کیا اور کہا کہ ڈھائی سو آپ کا اور ڈھائی سو ریال مولانا عباس صاحب کو دے دیں میں نے مولانا محمد عباس رضوی سے کہا کہ دیکھئے میاں ہم لوگوں کا ہر مقام پر کس قدر خیال فرماتے ہیں یہ بھی یاد رہے کہ حضور معین المشائخ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف دام ظلہ علینا کی معیت میں کئی مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف ملا
تقریباً پانچ راتیں مدینہ شریف میں گزارنے کے بعد ہم لوگوں کا قافلہ مکہ مکرمہ کے صبح گیارہ بجے قریب روانہ ہوا راستے میں مسجد ذوالحلیفہ میں نماز ادا کی گئی احرام باندھا گیا عشاء کے بعد ہم سب اپنے ہوٹل فندق بلال میں پہنچے پہنچنے کے بعد کھانا کھایا گیا اس کے بعد عمرہ کرنے کی غرض سے راقم الحروف اور مولانا محمد عباس رضوی اور مولانا محمد رضوان صاحب تینوں ہوٹل سے نکلے سیدھے حرم شریف گئے عمرہ کی ادائیگی ہوئی خرامہ خرامہ اپنے ہوٹل لوٹ آئے دوسرے دن فٹ رائٹ ٹور کی طرف سے مامور سید غوث اور محمد شفیق نے ہم لوگوں کو بس میں بٹھایا مقامات مقدسہ کی زیارت کراوئی بات واضح کرتا چلوں قافلے والوں کو ممبئی سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور واپس ممبئی ہونے تک کوئی دشواری دیکھنے کو نہیں ملی ہوٹل میں خوردونوش کا خاص اہتمام کیا گیا تھا صبح ناشتے کا بھی اہتمام تھا قافلے کے لوگ ہر لحاظ سے رضااکیڈمی کی کارکردگی سے مطمئن نظر آرہے تھے کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ رضااکیڈمی اور اس کے سربراہ اور اس کے اراکین کو سلامت باکرامت رکھے اس تنظیم کے ذریعے کم پیسوں میں ہمیں عمرے کی سعادت میسر ہوئی ہم نے بھی مدینہ دیکھا مقامات مقدسہ کی زیارت سے سرفراز ہوگئے قافلے میں جوانوں کے ساتھ عمر رسیدہ افراد بھی موجود تھے وہ سب کے سب رضااکیڈمی سے بہت ہی خوش دکھائی دیئے۔
دل میں بار بار دل یہی مدینہ منورہ سے رخصتی کے وقت یہ خیال آرہا تھا کہ کاش کچھ دن اور آقا ﷺ کے دیار پاک میں پڑے رہتے ان مشکبار گلیوں کی ہوائیں لیتے۔محبوب خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روضۂ انور پر کئی بار حاضری کی سعادت سے فیض یابی کے بعد وہاں سے دل قطعی طور پر کہیں جانے کو آمادہ نہیں تھا یقین مانیں کہ جب عاشقان رسول ﷺ دیار حبیب کی جانب بڑھنے لگتے ہیں تو ان کے چہروں پر پرسکون کیفیت اور مسرت و شادمانی کے جذبات و احساسات عیاں ہوجاتے ہیں مضمحل قلوب فرحت و انبساط میں مسرور ہونے لگتے ہیں آنکھیں رحمت و نور کے سانچے میں ڈھلنے لگتی ہیں۔بیساختہ زبان سے اعلیٰ حضرت کے نعتیہ اشعار جاری ہوجاتے ہیں۔
برسے کرم کی بھرن پھولیں نعم کے چمن۔
ایسی چلا دو ہوا تم پہ کروڑوں درود
کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہی سے پناہ
تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود
لبوں پر درود و سلام کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں یوں کہہ لیں کہ سارا انسانی وجود روحانی فضاؤں میں مست ہوجاتا ہے۔غلامان رسول ﷺ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگتے ہیں ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ہم جیسا گناہ گار امتی آقا ﷺ کے سامنے حاضر ہونے جارہا ہے اور مچلتے ہوئے یہ کہنے لگتے ہیں کہ
جسے چاہا در پہ بلا لیا
جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ آقا کے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
ہاں ہاں ہم گناہ گاروں کی نظر مسجد نبوی شریف کے میناروں پڑی تو فرط جذبات و محبت و عقیدت کے آنسو چھلکنے لگے گنبد خضریٰ کی جانب نظریں اٹھیں تو یکایک الصلوٰۃ والسلام کا ورد جاری ہونے لگا یہ حقیقت ہے کہ ہر عاشق رسول ﷺ روضہ رسول ﷺ کو اپنے ماتھے کی نگاہوں سے دیکھ کر وجدانی کیفیت میں گم ہوجاتا ہے۔
الحمدللہ ہم لوگوں نے مسجد نبوی میں نمازیں پڑھیں ریاض الجنہ میں جانے کا موقع ملا ریاض الجنہ میں نوافل ادا کی عاشق رسول ﷺ کو ریاض الجنہ میں نوافل پڑھنے میں جو کیفیت محسوس ہوتی ہے اس کی لذت ہی کچھ اور ہے یاد رہے کہ روضۂ اطہر کی جالیوں سے لیکر منبر رسول پاک ﷺ تک ریاض الجنہ ہے اس جگہ نوافل ادا کرنے کے لئے عاشقان رسول ﷺ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں ہم نے بھی اس مقدس و مطہر جگہ پر نماز نفل ادا کیا اس کے بعد کچھ دیر حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب کی معیت میں مسجد نبوی شریف میں بیٹھے رہے کبھی روضہ مبارک پر تو کبھی مصلے اور منبر رسول ﷺ پر نظریں جماتے رہے جذبات سینے سے باہر آئے کھل کر رونے کو جی چاہا پھر کیا تھا خوب روئے سوچے بھی نہیں تھے کہ یہاں پہنچ پائیں گے لیکن جب کرم ہوتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں وہی ہمارے ساتھ بھی تھا کہ ہم دربار رسول ﷺ حاضر تھے آنکھوں نے کہا ظفر تم یہاں آئے نہیں ہو بلائے گئے ہو جتنی خوشی منانا ہے منا لو اپنے گناہوں سے تائب ہوجاؤ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے معافی کا پروانہ ملنے پر جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
مسجد نبوی شریف سے ہم باہر آئے باب جبریل علیہ السلام سے ہوتے ہوئے جنت البقیع گئے جنت البقیع کے بڑے گیٹ کے پاس خلیفہ سوئم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزار مقدس ہے چند قدم آگے شہزادئی رسول ﷺ کا مزار پاک ہے ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے علاوہ آقا ﷺ کی ازواج مطہرات یہیں آسودہ خاک ہیں فاتحہ پڑھتے ہوئے درودوسلام کا ورد کرتے ہوئے جنت البقیع سے باہر آئے آج بھی وہ سب منظر نگاہوں میں بسا ہوا چھ دن اور چھ راتیں مدینہ منورہ میں رکنے کا موقع ملا۔
آپ قارئین کرام کو ہم بتاتے چلیں کہ غار ثور،غار حرا،مسجد عائشہ،مسجد جعرانہ،میدان عرفات، مزدلفہ،مسجد نمرہ، منی،جنت البقیع،مسجد قباء،مسجد قبلتین۔مسجد جمعہ،مقام غزوۂ احزاب،جبل احد،جبل رحمت،جبل ملائکہ،جبل نور،مسجد ذوالحلیفہ،مقام طائف،بنو سعد قبیلہ کی زیارت کرنا اور ان مقامات پر نوافل ادا کرنا ہر عاشق رسول ﷺ کی دلی تمنا ہوتی ہے ہم نے بھی ان جگہوں پر نوافل ادا کیا مسجد نمرہ مسجد عائشہ مسجد ذوالحلیفہ مسجد جعرانہ سے احرام کی حالت میں ہوئے مستی میں عمرے سے فراغت حاصل کئے ان مقامات مقدسہ کی زیارت کرنا ہر امتی کی دلی تمنا ہوتی ہے ان مقامات کی زیارت سے دل جوش ایمانی سے سرشار ہوجاتا ہے بار بار دل میں زیارت کی تڑپ بڑھتی جاتی ہے رب تبارک و تعالیٰ کی بے پناہ احسان اور رسول کریم ﷺ کا فضل و کرم ہے کہ مجھ گنہ گار کو بھی عمرے کی سعادت میسر ہوئی اور ان مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا
دیوانوں کی کیفیت اس وقت کچھ عجیب سی ہوتی ہے جب خانۂ کعبہ پر پہلی نظر پڑتی ہے قلوب و اذہان کی کیفیت بدل جاتی ہے دھڑکنیں تغیر و تبدل کا شکار ہوجاتی ہیں جوں جوں مطاف کی طرف بڑھتے ہیں تو سارے احساسات وجذبات اکھٹے ہونے لگتے ہیں انسان دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہے پورا وجود آنکھ بن کر یک ٹک بیت اللہ کو دیکھنے میں محو و مستغرق ہوجاتا ہے لبیک اللہم لبیک کی صدائیں جسم و روح کو جھنجھوڑ دیتی ہیں قدموں میں کپکپاہٹ پیدا ہوجاتی ہے اور یہ کیفیت اس وقت تک رہتی ہے جب تک طواف و مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھنے اور صفاء و مروہ کی سعی اور سر منڈانے کا عمل پورا نہیں ہوجاتا۔
بارہ 12/ستمبر 2025 بروز جمعہ کو اب قافلہ مکہ مکرمہ سے ممبئی کے لئے روانہ ہونے کو تھا قافلے کا فرد جہاں اپنے واپسی پر خوش تھا وہیں پر حرمین شریفین کی مقدس سرزمین چھوڑنے پر مغموم بھی نظر آرہا تھا دراصل ایک مسلمان کے لئے وہ گھڑی بہت ہی دکھ بھری ہوتی ہے جب وہ اپنے محبوب کی گلیوں سے بچھڑنے لگتا ہے۔یہی حال ہم غلاموں کا تھا آج بھی وہ مقدس مناطر نگاہوں میں بسے ہوئے ہیں دل میں بار بار یہی خیال آتا ہے کہ ان گلیوں کی زیارت کا پروانہ پھر دوبارہ مل جائے اللہ کریم اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے و طفیل حرمین شریفین کی حاضری میسر ہو جائے اور جو مسلمان ابھی تک وہاں نہیں پہنچے انہیں بھی اس دیار کی حاضری نصیب فرمائے آمین۔
قافلے میں شریک حضرات کے اسمائے گرامی اس طرح ہیں
حضرت مولانا سید قطمیر صاحب کچھوچھہ شریف حضرت مولانا مفتی ابراہیم آسی ممبئی۔حضرت مولانا محمد عباس رضوی ممبئی حضرت مولانا عظمت علی علیمی ممبئی حضرت مولانا قاری عبدالرحمن ضیائی ممبئی حضرت مولانا مفتی رضوان احمد علیمی ممبئی حضرت مولانا جہانگیر القادری علیمی ممبئی حضرت مولانا عبد اللہ علیمی ممبئی حضرت مولانا قاری شبیر گجرات حضرت مولانا حافظ سید امتیاز