پریس ریلیز
رضا اکیڈمی کا منفرد اقدام، خانوادۂ اعلیٰ حضرت کی دو سو سالہ خدماتِ افتا کے موقع پر مفتیانِ کرام کو امام احمد رضا ایوارڈ سے نوازنے کا سلسلہ جاری
بہرائچ شریف: مجددِ اسلام، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادۂ علم و فضل کی دو سو سالہ خدماتِ افتا کی تکمیل کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے رضا اکیڈمی کی جانب سے ممتاز علماء و مفتیانِ کرام کو امام احمد رضا ایوارڈ سے نوازنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی سلسلے میں اسیرِ مفتیِ اعظم، خلیفۂ تاج الشریعہ حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب، بانی و چیئرمین رضا اکیڈمی اور حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب، امام و خطیب ہانڈی والی مسجد کی قیادت میں رضا اکیڈمی کا وفد دارالعلوم مسعودیہ مصباحیہ، سالار گنج، بہرائچ شریف پہنچا، جہاں علماء و مفتیانِ کرام کی موجودگی میں امام احمد رضا ہال میں حضرت علامہ محمد عارف رضا مصباحی پرنسپل دارالعلوم ھذا کی صدارت میں ممتاز مفتیانِ کرام کو امام احمد رضا ایوارڈ پیش کرکے ان کی علمی و دینی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
جن مفتیانِ کرام کو امام احمد رضا ایوارڈ سے نوازا گیا، ان میں مفتی محمد وارث علی جامعی، حضرت مفتی محمد سہیل اختر مصباحی، حضرت مفتی محمد مظفر علی صاحب قبلہ نوری، حضرت مفتی محمد شعیب رضا امجدی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد سبطین رضا صاحب قبلہ نوری جامی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد سلطان رضا صاحب قبلہ نوری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسلام خان صاحب قبلہ نوری مصباحی اور حضرت مولانا مفتی محمد خالد رضا صاحب قبلہ رجبی منظری شامل ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائدِ ملت حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فقہِ اسلامی، علمِ حدیث، اصولِ فقہ اور دیگر علومِ دینیہ کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بالخصوص فتاویٰ رضویہ آپ کی فقہی بصیرت، علمی تحقیق اور استدلال کا عظیم شاہکار ہے، جس سے آج بھی علماء و مفتیانِ کرام استفادہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادۂ علم نے دو صدیوں سے زائد عرصے میں علمِ دین، فقہ، افتاء، تدریس، اصلاح اور دینی رہنمائی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اس علمی ورثے نے برصغیر کے دینی و فقہی حلقوں پر گہرے اثرات مرتب کیے اور نسل در نسل علم و معرفت کی روشنی عام کی۔
اس موقع پر حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب کی علمی و دینی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔ بحیثیت عالمِ دین، امام و خطیب آپ نے دینی رہنمائی، اصلاحِ معاشرہ اور علمی و فقہی خدمات کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
رضا اکیڈمی کی پچاس سالہ علمی و دینی خدمات کے حوالے سے حضرت محمد سعید نوری صاحب کی خدمات کو بھی شرکائے مجلس نے سراہا۔ انہوں نے طویل عرصے سے علماء و مشائخ، مفتیانِ کرام اور دینی شخصیات کی حوصلہ افزائی، ان کی خدمات کو اجاگر کرنے اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و فقہی میراث کو عام کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔
معین العلماء حضرت علامہ معین الدین قادری کی پرتپاک میزبانی
دارالعلوم مسعودیہ مصباحیہ کے بانی و سربراہ، معین العلماء حضرت علامہ معین الدین قادری صاحب قبلہ نے وفد میں تشریف لانے والے حضرت قائد ملت الحاج محمد سعید نوری وشہزادہ شیر ملت علامہ اعجاز احمد کشمیری ڈاکٹر رئیس احمد رضوی صدر رضا اکیڈمی مالیگاوں شہزادہ اکبر حضرت نوری صاحب مصطفیٰ رضا امن میاں قاری عبد الرحمٰن ضیائ ممبئی قاری ثناء اللہ رضوی ممبئی علامہ محمد اعظم رضا حشمتی لکھنؤ مولانا ارشاد ثقافی ودیگر معزز مہمانوں کا نہایت گرمجوشی اور محبت کے ساتھ استقبال کیا۔ انہوں نے رضا اکیڈمی کی پچاس سالہ علمی، دینی، ملی اور اصلاحی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے تاجدارِ اہلِ سنت، حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کی زندہ کرامت قرار دیا۔
حضرت علامہ معین الدین قادری صاحب نے امام احمد رضا ایوارڈ کے ذریعے علماء و مفتیانِ کرام کی خدمات کے اعتراف کو ایک مبارک اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا اور اس علمی و دینی سلسلے کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
علماء و مفتیانِ کرام نے بھی رضا اکیڈمی کی پچاس سالہ خدمات اور اہلِ علم کی پذیرائی کے اس سلسلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ علماء و مفتیانِ کرام کی علمی خدمات کا اعتراف ایک مبارک روایت ہے، جو نئی نسل کو علمِ دین، فقہ، افتاء اور خدمتِ دین کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرے گی۔
جاری کردہ: رضا اکیڈمی

