
دوسو سالہ خدماتِ افتاء خاندانِ اعلیٰ حضرت کا تاریخی آغاز
رضا اکیڈمی کی جانب سے ملک بھر میں سال بھر تقریبات، 200 مفتیانِ کرام کو ایوارڈ دیے جائیں گے
بریلی شریف، 2 اگست (اسٹاف رپورٹر):
خاندانِ اعلیٰ حضرت کی دو سو سالہ عظیم الشان خدماتِ افتاء کی یاد میں منعقد ہونے والی تاریخی تقریبات کا باقاعدہ آغاز بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے جدِّ اعلیٰ سند العلماء حضرت علامہ شاہ مفتی رضا علی خان قدس سرہ اور امام المتکلمین حضرت علامہ شاہ مفتی نقی علی خان قدس سرہ کے مزاراتِ مقدسہ پر حاضری، فاتحہ خوانی اور دعا سے کیا گیا۔
اس تاریخی موقع پر خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے ممتاز علماء اور سجادگان میں حضور تاجِ ملت حضرت علامہ منان رضا خان صاحب قبلہ، تاج السنہ حضرت علامہ مفتی محمد توصیف رضا خان صاحب قبلہ اور مفکرِ اسلام، فاضلِ ازہر حضرت علامہ مفتی محمد فیض رضا خان صاحب قبلہ خصوصی طور پر موجود تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت علامہ منان رضا خان صاحب نے کہا کہ رضا اکیڈمی کے بانی و سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے خاندانِ اعلیٰ حضرت کی دو سو سالہ خدماتِ افتاء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف علمی، تحقیقی اور عوامی پروگراموں کا جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام منصوبوں کو کامیابی سے ہمکنار
فرمائے اور انہیں امتِ مسلمہ کے لیے مفید بنائے۔
تاج السنہ حضرت علامہ مفتی محمد توصیف رضا خان نے اظہارِ مسرت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اس بات کا پہلے علم نہیں تھا، مگر محمد سعید نوری صاحب خاندانِ اعلیٰ حضرت کی تاریخ کے نادر اور اہم گوشے تلاش کرکے انہیں عالمِ اسلام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلا شبہ خاندانِ اعلیٰ حضرت کی خدماتِ افتاء دو سو برس سے مسلسل جاری ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی یہ علمی و دینی سلسلہ اسی شان سے جاری رہے گا۔
فاضلِ ازہر حضرت علامہ مفتی محمد فیض رضا خان نے اپنے خطاب میں خاندانِ اعلیٰ حضرت کی علمی و فقہی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس مبارک سلسلے کا باقاعدہ آغاز حضرت علامہ شاہ مفتی رضا علی خان قدس سرہ نے دارالافتاء اور دارالقضاء کے قیام سے کیا، جہاں وہ قاضی القضات کے منصب پر بھی فائز رہے۔ ان کے بعد امام المتکلمین حضرت علامہ شاہ مفتی نقی علی خان قدس سرہ نے اس عظیم ذمہ داری کو سنبھالا۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ پوری زندگی مرجعِ خلائق بن کر لاکھوں فتاویٰ تحریر کرتے رہے اور منصبِ قاضی القضات کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ پھر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان، سرکار مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان، مفسرِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خان، حضرت علامہ مفتی ریحان رضا خان اور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان علیہ الرحمہ نے اس عظیم علمی وراثت کو جاری رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج یہ عظیم سلسلہ جانشینِ تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد عسجد رضا خان صاحب قبلہ، امینِ علومِ امام احمد رضا خان حضرت علامہ ارسلان رضا خان صاحب مدظلہ العالی اور فاضلِ ازہر حضرت علامہ مفتی محمد فیض رضا خان صاحب کی نگرانی میں پوری شان کے ساتھ جاری ہے۔
اس موقع پر رضا اکیڈمی کے بانی و سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے اعلان کیا کہ خاندانِ اعلیٰ حضرت کی دو سو سالہ خدماتِ افتاء کی مناسبت سے ملک بھر کے 200 ممتاز مفتیانِ کرام کو ان کی دینی، علمی اور فقہی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا خانوادہ ہو جس نے مسلسل دو صدیوں تک بلا انقطاع امتِ مسلمہ کی فقہی رہنمائی، افتاء، قضاء اور دینی خدمات کا عظیم فریضہ انجام دیا ہو۔ رضا اکیڈمی ان تاریخی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے سال بھر مختلف علمی، تحقیقی، تعلیمی اور عوامی پروگرام منعقد کرے گی۔
Post Views: 14