Date: Fri 20 May 2022 /

20-May-2022 18-Shawaal-1443

کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ مداخلت فی الدین ہے۔ (سعید نوری)

کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ مداخلت فی الدین

ہے۔ (سعید نوری)
فیصلے کے خلاف کسی ردعمل پر پابندی لگانا بھی بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنا ہے۔

اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ (معین میاں)

15 مارچ/ ممبئی: پورے ملک میں موضوع بحث بنے کرناٹک حجاب معاملے میں وہاں کی ہائی کورٹ نے جو حجاب مخالف فیصلہ دیا ہے وہ ناقابل قبول ہے، اسے ہم پوری طرح مسترد کرتے ہیں اور کرناٹک ہائی کورٹ کے اس حجاب مخالف فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا، اس طرح کا فیصلہ سُنّی بلال مسجد میں علماء کرام، ائمہ و سرکردہ افراد کی میٹنگ میں لیا گیا۔ واضح رہے کہ منگل کو کرناٹک ہائی کورٹ نے اُڈوپی کی طالبات کی جانب سے دائر پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حجاب کا حکم قرآن میں کہیں نہیں دیا گیا۔ اس لئے حجاب پہن کر اسکول کالج جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ فیصلہ آنے کے فوراً بعد سُنی بلال مسجد، ممبئی میں علمائے کرام کی ہنگامی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت کرتے ہوئے جانشینِ مخدومِ سمناں، حضرت سید معین میاں اشرفی الجیلانی، سجادہ نشین کچھوچھہ مقدسہ نے مسلمانوں سے گزارش کہ ہے کہ وہ کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر کسی بھی طرح کے جذباتی اقدام سے گُریز کریں، سڑکوں پر اُتر کر احتجاج، دھرنا آندولن اور اس طرح کی تحریکیں چلانے کی بجائے اس فیصلے کو ملک کی عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ امن و امان بھی ضروری ہے اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے تگ و دَو کرنا بھی ضروری ہے۔ اس لئے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے انصاف طلب کرنے کا فیصلہ علماء و ائمہ کی اس میٹنگ میں کیا گیا۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بانیٔ رضا اکیڈمی، قائدِ ملّت، الحاج محمد سعید نوری نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب مخالف فیصلے کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ آپ نے کہا کہ ہر سماج میں حجاب، پردہ، برقعہ، پَلّو، جیسی رسوم رائج ہیں۔ لیکن اسلام نے عورتوں پر پردہ فرض کیا ہے، یہ رسم رواج نہیں۔ اور فرقہ پرست عناصر اسی شرعی نکتے پر وار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مولانا خلیل الرحمٰن نوری نے کہا کہ جن بچیوں نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کیا تھا، ان سے ملاقات کرکے اس فیصلے کو سپریم کورٹ تک لے جانے کی گزارش کی جانی چاہیے ، ہم ان کے ساتھ ہیں، انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔ ہمارے سماج اور معاشرے میں کچھ افراد جذباتی ردعمل کے اظہار کی بات کرتے ہیں تو ہم ان سے گزارش کریں گے کہ اس معاملے کو عدلیہ سے ہی حل کرانا عقلمندی کی بات ہے۔ مولانا امان اللہ رضا نے کہا کہ ہماری بچیاں اگر پردے میں رہ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں تو ملکی دستور نے بھی ہر شہری کو بنیادی حقوق دئے ہیں جس کو اس طرح کے غیر آئینی فیصلوں سے چھینا نہیں جاسکتا۔ علامہ مشتاق احمد نظامی کے اس شعر غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے کچھ ہم کو کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا کو پیش کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ ہم ججیس کو سمجھائیں گے کہ یہ بنیادی انسانی ضرورت ہے اسے سمجھنے کے لیے صرف قرآن پڑھنا ضروری نہیں بلکہ احادیث اور اقوال ائمہ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ مولانا عبدالرحیم اشرفی نے کہا کہ کسی بھی قومی، سماجی یا مذہبی ناانصافی پر معین میاں اور سعید نوری ہمیشہ قوم کی رہنمائی کے لیے حاضر رہتے ہیں اور فوراً علماء و ائمہ کو متحرک بھی کردیتے ہیں، یہ ان کی بہت بڑی خوبی ہے۔ آج کرناٹک ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ مذہب کے خلاف بھی ہے، ہندوستانی دستور میں دی گئی مذہبی آزادی و شخصی آزادی کے خلاف بھی۔ اس لڑائی کو قانونی دائرے میں رہ کر ہی لڑنا ہوگا۔ مولانا عباس رضوی نے بتایا کہ ابھی میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں نیوز دیکھ رہا تھا تو پتہ چلا کہ یادگیر کی کچھ بچیاں محض اس لئے اکزام ہال چھوڑ کر نکل گئیں کہ ہم اسلامی تعلیمات نہیں چھوڑ سکتے چاہے ہمیں اپنی دنیاوی تعلیم کو ادھورا چھوڑنا پڑے۔ سمجھ میں یہ آیا کہ عدلیہ کے متنازعہ فیصلے بچیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان بچیوں کا صاف کہنا ہے اگر انہیں بے حجاب ہوکر پڑھنا پڑے تو وہ ایسی تعلیم سے دور رہنا پسند کریں گے۔ آپ نے کہا کہ چند مٹھی بھر افراد اور شرپسند عناصر کے دباؤ میں عدلیہ کے فیصلے متاثر ہونے لگیں تو پھر انصاف کہاں ملے گا؟ ہمارے اپنے پاس پڑوس میں غیر مسلم عورتیں بھی چہرہ ڈھنکتی ہیں، یہ ہندوستانی تہذیب بھی ہے۔ اس لئے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ معین ملت، سید محمد معین الدین اشرف اشرفی جیلانی کی دعا پر اس میٹنگ کا اختتام عمل میں آیا آپ نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس شارٹ نوٹس پر اتنی کثیر تعداد میں علماء و ائمہ کا جمع ہوجانا ہمارے لئے نیک فال ہے۔ اہم شرکاء میں مولانا عباس رضوی (ترجمان رضا اکیڈمی)، مولانا خلیل الرحمٰن نوری، مولانا امان اللہ رضا، مولانا صوفی محمد عمر (جامعہ قادریہ اشرفیہ)، قاری مشاق تیغی (امام سنی مسجد بلال)، مولانا عبدالرحیم اشرفی (سنی مسلم چھوٹا قبرستان ٹرسٹ)، مولانا فاروق، مولانا شاہنواز (حلیمہ مسجد)، قاری رئیس، قاری قسمت، قاری نقیب، (سید انوار اشرف اسلامک سینٹر)، مولانا عارف رضوی، ابراہیم طائی (مسلم کونسل) وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

Durood Shareef Count

    Moon Sighting