Date: Thu 30 May 2024 /

30-May-2024 22-Zul Qa'dah-1445

کبھی رہتے وہ اس گھر میں۔ از: جانشین حضور مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری، ازہری، بریلوی رضی اللہ عنہ ( سفینۂ بخشش)

کبھی رہتے وہ اس گھر میں
از: جانشین حضور مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری، ازہری، بریلوی رضی اللہ عنہ ( سفینۂ بخشش)

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میں
یہ کیسی موجیں آئی ہیں تمنا کے سمندر میں

ہجوم شوق کیسا انتظار کوئے دلبر میں
دل شیدا سماتا کیوں نہیں اب پہلو و بر میں

تجسس کروٹیں کیوں لے رہا ہے قلب مضطر میں
مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں

یہ بحثیں ہو رہی ہیں میرے دل میں پہلو و بر میں
کہ دیکھیں کون پہنچے آگے آگے شہر دلبر میں

مدینے تک پہنچ جاتا کہاں طاقت تھی یہ پر میں
یہ سرور کا کرم ہے ہے جو بلبل باغ سرور میں

مدینے کی وہ مرگ جانفزا گر ہے مقدر میں
امر ہو جائیں گے مرکے دیار روح پرور میں

جو تو اے طائر جاں کام لیتا کچھ بھی ہمت سے
نظر بن کر پہنچ جاتے تجلی گاہ سرور میں

اُجالے میں گمے ہوتے تجلی گاہ سرور کے
نظر سے چھپ کے ہم رہتے تجلی گاہ سرور میں

نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قید ستم گر میں

ستم سے اپنے مٹ جائے گے تم خود اے ستم گارو
سنو ہم کہہ رہے ہیں بے خطر دورِ ستم گر میں

گزر گاہوں میں ان کی میں بچھاتا دیدہ و دل کو
قدم سے نقش بنتے میرے دل میں دیدۂ تر میں

بناتے جلوہ گاہ ناز میرے دیدہ و دل کو
کبھی رہتے وہ اس گھر میں کبھی رہتے وہ اس گھر میں

مدینے سے رہیں خود دور اس کو روکنے والے
مدینے میں خود اخترؔ ہے مدینہ چشم اخترؔ میں

Scroll to Top

Date: Thu 30 May 2024 /

30-May-2024 22-Zul Qa'dah-1445

Contact Details

Social Links

Moon Sighting

.