Date: Fri 20 May 2022 /

20-May-2022 18-Shawaal-1443

روس یوکرین جنگ فوراً ختم ہو، سُنّی بلال مسجد میں علماء و ائمہ کی میٹنگ، جمعہ کو یومِ دعا منانے کی اپیل

روس یوکرین جنگ فوراً ختم ہو، سُنّی بلال مسجد میں علماء و ائمہ کی میٹنگ، جمعہ کو یومِ دعا منانے کی اپیل

جنگ کے خاتمے اور عالمی امن عامہ کے لیے سید معین میاں اشرفی نے دعا فرمائی

حکومت عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرے، مصالحت اور بقائے باہم کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرے. (سعید نوری)

ممبئی: روس اور یوکرین کے بیچ جاری سخت حالات اور جنگ جیسی صورتحال کے درمیان سُنّی مسجد بلال ممبئی میں ایک اہم نشست کا اہتمام کیا گیا اور جنگ کی وجہ سے انسانی جانوں کے اتلاف اور وسائل کی بربادی پر افسوس کا اظہار کیا گیا. معین المشائخ، جانشینِ مخدومِ سمناں، حضرت سید معین میاں اشرفی الجیلانی) صدر آل انڈیا سُنی جمیعۃ العلماء و تحفظِ ناموسِ رسالت بورڈ) کی صدارت میں منعقدہ اس اہم نشست میں مختلف علماء، ائمہ اور عمائدین شہر کی موجودگی میں جمعہ کو عالمی امن کی بحالی کے لئے “یومِ دعا” منانے کا فیصلہ کیا گیا.
اپنے خطبہء صدارت میں حضرت سید معین میاں اشرفی الجیلانی نے فرمایا کہ بھارت میں اگرچہ کہ فرقہ پرست طاقتیں اقلیتوں کو پریشان کرنے کے درپے ہیں، مسلمانوں کو مختلف حیلے بہانے پریشان کیا جارہا ہے، اس کے باوجود دنیا میں کہیں بدامنی پھیلتی ہے تو بھارت کا مسلمان بے چین ہو اٹھتا ہے. اس لئے کہ اسلام انسانیت کا درس دیتا ہے، امن و سلامتی کے قیام کی تعلیم دیتا ہے، جنگ و جدال سے روکتا ہے، اس لئے بھارت کا مسلمان دنیا کے کسی کونے میں ہونے والی خونریزی اور جنگ و جدال کو ہوتا دیکھ چپ نہیں رہ سکتا. ملک سمیت عالمی امن عامہ کی بحالی پر خصوصی دعا کرتے ہوئے آپ نے یوکرین سمیت پوری دنیائے انسانیت کی خوشحالی، امن اور بقائے باہم کی دعا فرمائی.

بانیِ رضا اکیڈمی الحاج محمد سعید نوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی جان قیمتی ہے، اسے بچانے کے تیز تر اقدامات کی اب بھی ضرورت ہے. آپ نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرے اور روس و یوکرین کے بیچ مصالحت کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرے. آپ نے مزید فرمایا کہ روس کو اپنی جارحانہ روش کو بند کرنا چاہیے اور مسائل کو گفتگو کے ٹیبل حل کیا جانا چاہیے

اس موقع پر علماء ائمہ اور
عمائدین ممبئی کی موجودگی میں طئے پایا کہ جمعہ کو ملک بھر کے مسلمان اپنی مساجد میں “یومِ دعا” کا اہتمام کریں، ملک سمیت پوری دنیا میں امن و سلامتی اور جنگ کے خاتمے کی دعا کریں.

مولانا روشن ضمیر نوری (دارالترجمہ والنشر کولکتہ) نے اپنی بات رکھتے ہوئے فرمایا کہ نام نہاد عالمی طاقتیں اپنی انا کی تسکین کی خاطر دوسروں کی آزادی کو سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں.

مولانا عباس رضوی نے فرمایا کہ مڈل ایسٹ عراق و افغانستان میں جبراً تھوپی گئی جنگ سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، معاملات کو سفارتی سطح پر حل کیا جانا چاہیے ناکہ جنگ مسلط کرکے پوری دنیا کے لئے خطرہ پیدا کیا جائے. مولانا تجمل حسین نورانی و دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور جمعہ کو ملک بھر میں “یومِ دعا” منانے کے فیصلے کی پرزور حمایت کی. سُنّی بلال مسجد، دوٹانکی پر منعقدہ اس اہم نشست میں حاجی اسلم لاکھانی، مولانا عبدالرحیم اشرفی، صوفی محمد عمر (ناظم اعلی جامعہ قادریہ)، مولانا قاری مشتاق احمد تیغی (خطیب و امام سُنّی مسجد بلال)، حافظ و قاری قسمت خان، مولانا فاروق اشرفی، مولانا عباس رضوی، حافظ ارشاد رضا ہبلی، قاری رئیس اشرفی، ناظم رضوی وغیرہ شریک رہے.

Durood Shareef Count

    Moon Sighting